Nasim


٭      نسيم ہدایت کے جھونکے (انٹرويو)

احمَد اوّاہ ند وی.

احمداوّاہ: السلام عليکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ہارو ن صاحب
ہارون صاحب : وعليکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
س: آپ کو اسلام قبول کئے ہوئے کتنے روز ہوئے؟
ج:مجھے آج تیرہ روز ہوئے ہيں ،ميں نے اپنے خاندان کے سا تھ اوکھلا جاکر کلمہ پڑھا۔
س:آپ کے صاحب زادے ڈاکٹر انس صاحب آپ کے ساتھ ہی مسلمان ہو ئے؟
ج:جی ہاں ! ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات يہ ہے کہ ميں نے اپنے پورے خاندان کے ساتھ يعنی اہليہ،بيٹے اوردونوں بيٹيوں کے ساتھ اسلام قبول کيا، ورنہ ايک آدمی کے مسلمان ہونے کے بعد خاندان ميں بڑی مشکل کا سامناکرناپڑتا،بڑی مخالفت ہوتی ميں بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جنھيں گھر بار خاندان سب کو چھوڑنا پڑا اور جن لوگوں کے کچھ گھروالے اسلام ميں آئے،ان کو بھی بڑے پاپڑ بيلنے پڑے۔
س:حيرت ہے تیرہ روز ميں آپ دونوں کے اتنی بڑی داڑھی! آپ دونوں کو ديکھ کر ايسا لگتا ہے جيسے تيرہ سال پرانے مسلمان ہيں ؟
ج:اصل ميں چند روز پہلے ہم نے شيونگ بند کردی تھی، اب بس خط بنوايا ہے،ہم لوگوں نے ارادہ تودس سال پہلے اسلام قبول کرنے کا کر ليا تھا۔
س:ابی بتارہے تھے کہ آپ نے کسی مسلم محلہ ميں مکان ليا ہے؟
ج:جی ہاں ہم لوگ وجے نگر ميں رہتے تھے،ميں نے گھر والوں سے مشورہ کيا،سب لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے تو پھر يہ خيال ہوا کہ ہندو محلہ ميں اسلام قبول کرکے اسلامی زندگی گذارنا مشکل ہوگا، اس لئے ہم لوگوں نے موری گيٹ ميں مکان خريدا۔
س:موری گيٹ ميں مکان اچھا مل گيا؟
ج:الحمد للہ بہت اچھا مکان مل گيا ہے،اصل ميں اس مکان کی سب سے بڑی اچھائی يہ ہے کہ مسجد کی ديوارسے لگاہواہے، ايک مکان ہميں اور مل رہا تھا،ہمارے سبھی جاننے والے جو اکثر مسلمان ہی تھے ان کی رائے تھی کہ يہ مکان دو سو گز ميں ہے اور پانچ لاکھ روپئے سستا مل رہا ہے، وہ لے ليں ،مگر بيٹے انس نے بھی رائے دی اور ميرے دل ميں بھی بات آئی کہ يہ مکان ڈيڑھ سو گزميں ضرور ہے پچاس گز زمين کم ہے اورپانچ لاکھ روپئے قيمت بھی زيادہ ہے،مگر اللہ کے گھر کی ديوار سے ديوار ملی ہوئی ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی مسجد ميں جماعت ميں نماز مل جايا کرے گی،اس لئے مسجد کے قريب کا مکان خريدا،اورتیرہ روز کا تجربہ بالکل صحيح نکلاکہ اللہ نے اپنے فضل سے بہت ہی اچھی بات ذہن ميں ڈالی،تیرہ روز ميں ميری تو اللہ کا شکر ہے ايک بھی جماعت نہيں نکلی،ساری نمازيں جماعت سے ہورہی ہيں ،اور جب موقع ہوتا ہے امام صاحب کے پاس چلا جا تا ہوں ،ايسا لگتا ہے کسی مدرسہ ميں داخلہ لے کر مستقل رہ رہا ہوں ۔الحمد للہ
س:آپ کو اسلام قبول کرنے کے لئے کس چیزنے آمادہ کيا،ذرا تفصيل سے بتائيے؟
ج:اصل ميں ہميں اسلام قبول کرنے کے لئے اللہ کے فضل اورہمارے ارادہ نے آمادہ کيا،اس کے علاوہ اور بظاہر کوئی وجہ نہيں ہے،يا زيادہ سے زيادہ جيسا حضرت فرمارہے تھے کہ ہر کچے پکے گھر ميں اسلام داخل ہونے کی ہمارے نبی ﷺ کی سچی خبر سچ ہورہی ہے،اس لئے اللہ کی طرف سے ہدایت اتار دی گئی ہے۔
س:پھر بھی ظاہری طورپر آپ کو کسی نے تو دعوت دی ہوگی؟
ج:دعوت کا توسوال ہی پيدا نہيں ہوتا،بلکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے ہميں کچھ مسلمانوں نے اس سے باز رہنے کا مشورہ بڑی ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ دياتھا۔
س:ذرا تفصيل سے بتائيں ؟
ج:اصل ميں کچھ تفصيل بھی نہيں ہے جو سنائی جائے، سات سال پہلے ايک روز ميں صبح کو سو کر اٹھاتو جنم اشٹمی کا تہوار تھا ، ميرے دل ميں خيال آيا کہ مجھے مسلمان ہوجانا چاہئے، اصل ميں دھرم تو سچا اسلام ہی ہے،اور يہ تقاضا بڑھتا گيااور اس روز ميں نے پوجا نہيں کی،بلکہ تہوار بھی نہيں منايا،ميری بيوی نے جو خود ايک پنڈت کی بيٹی ہيں اور ان کے والد کنڈی وغيرہ بھی بناتے ہيں اور ہون وغيرہ بھی کرتے ہيں ،نے مجھ سے معلوم کيا کہ آپ نے جنم اشٹمی نہيں منائی،ميں نے کہا ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام اپنانے کا ارادہ کرلياہے اور يہ ميرے دل ميں اندر سے کوئی شکتی (طاقت) بات ڈال رہی ہے،اور اب ايسا لگتا ہے کہ ميرے مالک کی طرف سے ميرے لئے مارگ درشن (رہنمائی)ہے،ميرے بيوی بجائے ناراض ہونے کے بولی آپ کا خيال سچا ہے،مجھے بھی دو تین مہينے سے اندر سے کوئی کہہ رہا ہے، مگر ميں نے آپ کے ڈر کی وجہ سے نہيں کہاکہ آپ يہ نہ سمجھيں کہ يہ پاگل تو نہيں ہوگئی ہے،ميں نے ايک روز اپنے لڑکے سے جو سارے بچوں ميں سب سے بڑا ہے اس وقت بی ايس سی کررہا تھا،اس سے اس کا ذکر کيا،اس نے بھی خوشی سے ہمارے ساتھ رہنے کو کہا، وجے نگر کے جس علاقے ميں ہم رہتے ہيں ، وہاں تین مندر ہيں اور شيو سينا کا دفتر ہے،مجھے خيال ہوا کہ يہاں رہ کر ہمارے لئے اسلامی زندگی گذارنا مشکل ہے، اس لئے ہميں يہاں کا مکان بيچ کر کسی مسلم علاقے ميں مکان کا انتظام کرنا چاہئے،بيوی سے مشورہ کيا اس نے بھی اس رائے سے اتفاق کيا،چند پراپرٹی ڈيلرس سے بات کی،لا اور لے ميں بڑا فرق ہوتاہے، لوگ بہت کم قيمت لگاتے رہے، بڑی مشکل سے پينتیس لاکھ روپئے ميں ايک صاحب سے سودا ہوگيا،دو لاکھ روپئے بيعانہ ميں لے لئے،ہم نے ايک مکان مصطفی آباد ميں تلاش کرکے دو لاکھ روپئے دے دئيے،چھ مہينہ ميں بيعنامہ کا وعدہ تھا،مگر ايک سال تک خريدنے والے نے پيسے نہيں دئيے،اور بعد ميں اپنے دو لاکھ روپئے واپس دينے کا مطالبہ کيا،بڑی مشکل سے کسی جاننے والے سے قرض لے کر ان کے دو لاکھ روپئے واپس کئے،کئی سال تک کوشش کے باوجود مکان نہ بک سکا،ميری بيوی نے کہا ايسا کريں ،اس مکان کے پيسوں ميں دان کی نیت کرليں ، جتنے کا مکان بکے گا اس کا چاليسواں حصہ مسجد ميں دان کريں گے، ميں نے نیت کرلی،ميرے اللہ کا کرم ہے کہ مکان اٹھاون لاکھ روپئے کا بک گيا اور دو مہينے ميں بيع نامہ بھی ہوگيا،ميں اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کے مطابق ڈيڑھ لاکھ روپئے لے کرپہلے ناگلوئی مسجد ميں گيا اور ميں نے وہ پيسے دينے چاہے، مگر ان لوگوں نے يہ کہہ کر واپس کر دئيے کہ تم تو کافر ہو ناپاک ہو،تمھارا مال مسجد ميں نہيں لگ سکتا،مجھے بہت دکھ ہوا،پھر اس کے بعد دوارکا ميں ايک کالونی میں مسجد بن رہی تھی،اس ميں بھی گيا ،انھوں نے بھی وہ پيسے لينے سے انکار کرديا،کہ کسی کافر کا مال اللہ کے گھر ميں نہيں لگ سکتا،مجھے کسی نے بتايا کہ جب تک ديوبند سے فتویٰ نہيں آئے گا اس وقت تک مسجد والے يہ پيسے نہيں لے سکتے ،ميں نے ايک مسجد ميں جاکر امام صاحب سے درخواست کی کہ مجھے ديوبند سے فتویٰ منگاناہے، انھوں نے معلوم کيا کس بات کا؟ ميں نے ساری بات بتائی،انھوں نے کہا ديوبند کے بجائے فتح پوری مسجد چلے جائيں ، ميں ان سے فتویٰ لکھواکر فتح پوری مسجد کے شاہی امام کے پاس گيا انھوں نے فتویٰ دے ديا کہ لگ سکتا ہے۔ميں فتویٰ لے کر ناگلوئی گيا،وہاں کے لوگوں نے کہا يہ فتویٰ ہمارے يہاں نہيں چلتا،ميں نے پھرديوبند کا سفر کيا،ديوبند سے بھی فتویٰ آگيا کہ لگ سکتا ہے، اتفاق سے ميرے ايک جاننے والے نے بتايا کہ ہریانہ ميں ايک غريب علاقہ ميں مسجد بن رہی ہے،وہاں پيسے کی بڑی ضرورت ہے، ميں وہا ں گيااور اس رقم کا سامان چھت کے لئے سريہ، سيمنٹ اوربجری وغيرہ دلواآيا،ہمارے ايک جاننے والے حاجی صاحب موری گيٹ ميں رہتے ہيں ، ميں نے ان سے بتايا کہ ميں مصطفی آبادميں مکان لے رہا ہوں ،انھوں نے موری گيٹ ميں دو مکان بتائے اور مشورہ ديا کہ تمھاراکاروبار صدر ميں ہے، اس لئے تمھارے لئے موری گيٹ زيادہ بہتر رہے گا،گھروالوں کا مشورہ بھی يہی ہوا،اور پھر وہ مسجد کے قريب والا مکان خريد ليا گيا
س:آپ يہ فرمارہے تھے کہ کئی مسلمانوں نے آپ کو اسلام قبول کرنے سے باز رہنے کا مشورہ ديا،وہ کس نے ديا؟
ج:يہ پيسے لے کرجب ميں ناگلوئی گيا تومسجد کے صدر صاحب نے بڑی محبت سے مجھے سمجھايا کہ جس سماج ميں آدمی پيداہوتا ہے وہ سماج اس کے لئے ٹھيک ہو تا ہے،سماج سے ٹکرانا اور اپنے سارے خاندان پريوار کو چھوڑنا بڑا مشکل کام ہے، آپ کو جلد بازی ميں فيصلہ نہيں لينا چاہئے،اس کے بعد ايک اور ماسٹر صاحب تھے جو دوارکا ميں ملے،انھوں نے بھی کہاکہ مسلم سماج ويسے بھی بدنام ہے،آپ اپنے سماج ميں چين سے رہ رہے ہيں ، اپنی زندگی کو نرک نہ بنائيے۔
س:يہ ماسٹر صاحب بھی مسلمان تھے؟
ج:جی يہ ماسٹر صاحب بھی مسلمان تھے،اور انھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کا ايسا ڈراونا نقشہ کھينچا اور کچھ لوگوں کے نام بھی لئے جن لوگوں نے اسلام کو اپنايا تو سماج سے ان کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا اور مسلمانوں نے بھی ان کو کتنا دھوکہ ديا۔
س:آپ نے ان لوگو ں کے کہنے سے اپنے فيصلے کے بارے ميں کچھ نہيں سوچا؟
ج:ميں نے گھروالوں سے ذکر کيا ،توميرے بچوں نے بڑا حوصلہ بڑھايا اور کہا ہم لوگ پورے پريوارکے ساتھ مسلمان ہورہے ہيں ،وہ تو اکيلے ہونے کی وجہ سے مشکل ميں پڑے۔
اسلام سے روکنے کا ايک اور واقعہ يہ ہوا کہ ميں جب يہ پيسے لے کر ناگلوئی مسجد ميں دينے کے لئے گيا تو ايک صاحب نے يہ کہا کہ قرآن ميں کافر کا مال مسجد ميں لگانے کومنع کيا گيا ہے،ميں نے سوچا ديکھوں قرآن ميں کيا منع کيا گياہے، ميں نے کئی لوگوں سے ہندی کا قرآن مانگا،مگر ہر ايک نے منع کرديا، ايک ملا جی نے تو بہت برے لہجے ميں يہ کہا کہ کافر نجس کو قرآن کيسے ديا جا سکتا ہے، کافر تو کتے سے بھی ناپاک ہو تا ہے،ميں نے سوچا کہ بازار سے جاکر قرآن مجيد لے آوں ،ميں اردو بازار گيا اور ميں نے قرآن مجيد خريدا،پيسے دے کر قرآن پيک کرنے کہہ رہا تھا ، ايک لڑکا کتب خانہ پر تھا،جيسے ميں نے پيسے دےئے اس کے باپ جو بہت بوڑھے لمبی داڑھی والے تھے آگئے، انھوں نے ميرے ہاتھوں ميں قرآن ديکھ کر غصے سے چھين ليا،تم مسلمان نہيں ہو،تم کافر ہو،تم ناپاک ہو،مجھ سے قرآن چھين ليا اور پيسے واپس دے دئيے،اور اپنے بيٹے کو گالياں ديں ،ميں نے کہا کہ ميرا ارادہ مسلمان ہونے کا ہے، مگر کسی کام کا انتظار ہے،وہ بولے بس بس تم ہندو ہی رہو، اسلام کو تمھاری ضرورت نہيں ،ميرا دل بہت ٹوٹا،مگر گھر آيا تو گھر والوں نے ہماری ہمت بندھائی اور ميری بيوی نے کہا کہ ہمارا مالک جب ہميں مسلمان بنانا چاہ رہا ہے تويہ مسلمان ہر گز نہيں روک سکتے۔
س:جی تو پھر آگے بتائيے کہ آپ مسلمان کس طرح ہوئے؟
ج:ميں نے روہتک کے جس گاوں ميں مسجد کے لئے سامان دلوايا تھا وہاں کے امام صاحب سے ميں نے بتايا تو انھوں نے بتايا کہ آپ اس کام کے لئے مولانا کليم صاحب سے مليں ، ميں نے پتہ پوچھا تو انھوں نے پھلت کا پتہ بتايا اور بتايا کہ وہ دہلی ميں رہتے ہيں ،اس کا دفتر بٹلہ ہاوس اوکھلا مسجد کے پاس ہے، آپ وہاں بھی جا سکتے ہيں ،ميں نے دہلی آکر حاجی صغير صاحب سے موری گيٹ آکر بتايا، ان کے ساتھ ہم اوکھلا گئے،اتفاق سے دفتربند تھا،جو مولاناصاحب وہاں رہتے ہيں وہ اپنے گھر نانوتہ سہارن پور گئے ہوئے تھے،وہاں ايک بيمار سا آدمی ملا،اس نے خليل اللہ مسجد جانے کا مشورہ ديا،ہم لوگ وہاں پہنچے ،مولانا صاحب اڑيسہ کے سفر پر گئے ہوئے تھے،گھر سے فون نمبر لے کر حاجی صاحب نے بات کی،حضرت سے بات ہوگئی،اللہ کا شکر ہے فون نمبر مل گيا،سنا ہے کہ ان کا نمبر بہت کم ملتا ہے،حضرت صاحب نے حاجی صاحب سے کہا آپ ان کو کلمہ پڑھواديں ، موت زندگی کا کچھ پتہ نہيں ،اور کلمہ پڑھوانے ميں بلا وجہ دير کرنا کفر ہے، اس کے بعد مجھ سے بھی ملوادينا،ميں دوبارہ کلمہ بھی پڑھوادوں گا،مگر ميرے دل ميں يہ بات تھی کہ مجھے حضرت صاحب سے ہی مسلمان ہونا ہے،اتنے لوگوں کو چھوڑ کر جن صاحب نے ہمارے پيسے مسجد ميں قبول کئے، ان کا مشورہ غلط نہيں ہو سکتا،اڑيسہ سے واپسی پر ۰۳ مئی کو شام ميں ، ميں اپنے بچوں کو لے کر خليل اللہ مسجد پہنچا،ہمارے ساتھ حاجی صغير صاحب اور دو لوگ، اور ہمارے وجے نگر کے پڑوسی ونود گوئل صاحب ساتھ تھے، حضرت صاحب نے ہم سبھی کو کلمہ پڑھوايا ،ہم لوگوں نے اپنے نام پہلے سے طے کررکھے تھے،ميں نے اپنے لئے محمد ہارون،ميرے بيٹے نے محمد انس، اہليہ نے زينب، بيٹيوں نے فاطمہ اور آمنہ اپنی پسند سے رکھے، ونود گوئل کا نام مسعود احمد رکھاگيا۔
س:گوئل صاحب آپ کے ساتھ کس طرح آئے؟
ج: اصل ميں جب ہم مکان فروخت کررہے تھے،تو انھوں نے وجہ معلوم کی،ميں نے صاف صاف بتاديا کہ ہمارے پورے پريوارکا ارادہ مسلمان بننے کا ہے،اس لئے ہم کسی مسلم محلہ ميں رہنا چاہتے ہيں ،انھوں نے مجھ سے کہاکہ جب آپ مسلمان ہونے جائيں گے تو مجھے بھی بتانا،ميں نے چلنے سے پہلے ان کو فون کيا،بولے ميں ابھی آتا ہوں ،بس ميں بھی آپ کے ساتھ مسلمان ہوناچاہتا ہوں ،بٹلہ ہاوس اسٹاپ پر ملنا طے ہوگيا۔
س:بس يہ بات ہوئی،ايسے ہی خواہ مخواہ وہ مسلمان ہوگئے؟
ج:واقعی احمد بھائی وہ بالکل خواہ مخواہ مسلمان ہوئے،اور وہ ہم سے بھی پکے مسلمان ہوئے،تیرہ روز ميں اسلام کے لئے انھوں نے اتنی قربانياں دی ہيں کہ خاندانی مسلمان پچاس سال ميں نہيں دے سکتے،احمد بھائی آپ ان سے مل کر ان حالات ضرور چھپوائيں ،وہ چھپوانے کے لائق تھے۔
س:اس کے بعد کيا ہوا؟
ج:اسلا م کے بعد حضرت نے مجھ سے معلوم کياآپ نے ”آپ کی امانت،آپ کی سيوا ميں “ پڑھی ہے؟ ميں نے کہا نہيں ، حضرت صاحب نے معلوم کيا کوئی اور کتاب اسلام کے بارے ميں پڑھی ہے؟ ميں نے کہا: کوئی نہيں ،حضرت آدھا گھنٹے جرح کرتے رہے کہ آپ نے مسجد ميں جماعت ہوتے ديکھی،يا کسی کو دفن ہوتے ديکھا،يا اسلام کی کوئی چيز پسند کی،کسی مسلمان سے تعلقات ہوگئے،داڑھی ٹوپی والے آپ کو اچھے لگتے ہيں ؟ ميں نے کہا کوئی بات نہيں ،حضرت صاحب بہت ہی حيرت ميں کہنے لگے،اللہ کی شان ہے کہ اب تک جو لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے آتے تھے کوئی وجہ اسلام قبول کرنے کی ہوتی تھی،چاہے وہ اسلام مخالف پروپےگنڈہ ہو يا دوسری وجوہات ہوں ،يہ پہلا واقعہ ہے کہ بغير وجہ کے ہدایت۔وہ اللہ ،جو حضرت آدم کو بغير ماں باپ،اور حضرت عيسیٰ عليہ السلام کو بغير باپ کے پيدا کرنے والے ہيں ،وہ دکھارہے ہيں کہ ہم بغير سبب کے بھی ہدایت دے سکتے ہيں ،اور احمد بھائی واقعی ہميں اللہ تعالی نے بغير سبب کے اپنی قدرت اور فضل سے ہدایت سے نوازا۔
س:آپ کے بيٹے کيا کر رہے ہيں ؟
ج:انس نے فزيکس ميں پی ايچ ڈی مکمل کی ہے،ابھی وايوا ہونا باقی ہے،بڑی بيٹی فاطمہ بی ٹيک مکمل کررہی ہے،چھوٹی بيٹی نے پلس ٹو(بارہويں کلاس)کيا ہے۔
س:آپ دونوں تو امام صاحب کے پاس جاتے ہيں ،گھر کی عورتیں کيا کررہی ہيں ؟
ج:اللہ کا شکر ہے حاجی صاحب کے گھر ميں پڑھی لکھی بہو بيٹياں ہيں ،ميری بیوی ان سے اسلام سيکھ رہی ہے،بيٹيوں نے برقعے اوڑھ لئے ہيں ،اور بہت خوشی سے پردے ميں رہتی ہيں اور اللہ کا شکر ہے کہ نماز پابندی سے پڑھ رہی ہيں ۔
س:کاغذات وغيرہ بنوالئے ہيں ؟
ج:ہا ں حافظ ابرار صاحب جو حضرت کے ساتھ دہلی ميں رہتے ہيں وہ ہميں سرفراز اےڈوکيٹ صاحب کے پاس لے گئے تھے، انھوں نے بيان حلفی بنوائے اور سند اور سب چيزوں ميں نام بدلوانے کا کام شروع کرواديا ہے۔ہمارے پاس چھ لاکھ روپئے بچے ہوئے ہيں ،اس سال ہمارا حج کو جانے کا ارادہ ہورہا ہے، حضرت صاحب سے ميں نے فون پر بات کی حضرت صاحب نے بہت خوشی کا اظہار کيا،ہم پانچوں فيملی ممبر اللہ کا شکر ہے اپنے اسلام پر روزانہ دو نفل شکرانہ کی پڑھتے ہيں ،ميرا اور بيٹے کا ارادہ انشاءاللہ جماعت ميں جانے کا بھی ہے۔
س:ماشاءاللہ واقعی آپ کا اسلام اللہ کے فضل کی خاص نشانی ہے،آپ مسلمانوں کے لئے کوئی پيغام ديں گے؟
ج:جب ہدایت اس طرح اتری ہوئی ہو تو ہميں اللہ کے بندوں کی ہدایت کاذريعہ بننے کے لئے اپنی بساط بھر کوشش کرنا چاہئے،کم از کم ميرے جيسے اللہ فضل سے ہدایت کی طرف آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرکے ان کے لئے رکاوٹ تو نہ بننا چاہئے۔
س:واقعی آپ نے باکل ٹھيک کہا ، بہت بہت شکريہ، السلام عليکم ورحمة اللہ
ج: آپ کا بھی شکريہ، وعليکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ