| ٭ | فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے (اداريہ) | وصی سليمان ندوی |
| ٭ | دین تو خير خواہی کا نام ہے | مولانا محمد کليم صدیقی |
| ٭ | ہدیہ نعت | حفيظ محمود بلند شہری |
| ٭ | اسامہ بن لادن کی وفات | مولانا خالد سيف اللہ رحمانی |
| ٭ | نسيم ہدایت کے جھونکے (انٹرويو) | احمَد اوّاہ ند وی |
| ٭ | امانت ربانی کا امين کامل ﷺ | مولانا عبد الماجد دریابادیؒ |
| ٭ | دعوت، اسلام کی روح اورطاقت | مولانامحمدعيسیٰ منصوری(لندن) |
| ٭ | مجالس حسنی | ڈاکٹر سيد احتشام احمد ندوی |
| ٭ | داعیوں کے لئے چند اہم کتابيں | مولانا محمد اسامہ نانو توی |
| ٭ | نبی اکرم ﷺ کا کفار کے ساتھ حسن سلوک | مولانا جاويد اشرف مدنی ندوی |
| ٭ | کارگذاری دعوتی کيمپ علی گڑھ | قاضی ضياءالاسلام |
| ٭ | مسلمانو! تمھيں فکر کيوں نہيں ہے ؟ | امّ حسن (مدينہ منورہ) |
| ٭ | نعت | وزير جاويد شيخ |
| ٭ | خبروں کی دنيا | محمد ادريس قريشی ولی اللہی |
| ٭ | فقہی مسائل | مفتی محمد عاشق صدیقی ندوی |
| ٭ | کتاب نما | محمد حنيف قاسمی |
| ٭ | آخری صفحہ | مولانا محمد کليم صدیقی |
Thursday, March 31, 2011
Armughan-e-Dawat: Fehrist
Wednesday, March 30, 2011
اداريہ
٭ فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے
وصی سليمان ندوی
آج کی دنیا پر ايک سرسری نظر ڈالنے سے ہی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا ميں زندگی کے صرف دو معیار اور پیمانے باقی رہ گئے ہيں ۔سیاست اور ذاتی اغراض۔زندگی کی ساری رونقيں ،اور کاروبار حیات کا سارا نظام انہيں دو پہيوں کے گرد گردش کررہا ہے ۔تجارت ،زراعت، ڈاکٹری، وکالت، ملازمت، ہر ايک پر سیاست کا عمل دخل چلتا ہے اور جب کبھی آدمی کو اس سے رہائی ملتی ہے تو اس پر ذاتی اغراض ،پيٹ کی بھوک ، انفرادی مصالح حاوی ہوجاتی ہيں ۔خدمت خلق ،عوامی تعاون،بقائے باہم ،ايک دوسرے کے ساتھ جذبہ ہمدردی، انسانیت کی فکر ، اجتماعی مفادات کا تحفظ جيسے خیالات اب صرف کتابوں کے اوراق اور اسلاف کے واقعات ميں باقی رہ گئے ۔
يہاں صرف سياسی اور معا شی فوا ئد ہی اہميت رکھتے ہيں ،صرف اقتدار اور سياسی قوت و مر کزیت يا معا شی فرا غت ہی ان کی لغت ميں ايک با معنی لفظ ہے، يہاں اس بات کی کوئی اہميت نہيں کہ نسل انسا نی کس طرف جا رہی ہے؟ وہ خود پرستی، خود فراموشی،خود کشی، خود سوزی، حرام کشی،اور آدم خوری کی طرف جا رہی ہے، يا انسان دوستی، امن پر وری اور خير سگا لی کی طرف؟ آج دنيا ميں فسق و فجور کس قدر عام ہے ، جائز نا جائز طريقہ پر لذت اندوزی اور مطلب بر آری کا دور دورہ ہے اور چا روں طرف غير انسانی حرکا ت کا مشاہدہ ہورہا ہے، اگر کوئی پکارنے والا اعلان کرے کہ دنيا ہلاکت و بربادی کی طرف جا رہی ہے ، ظلم و ستم عام ہو رہا ہے ، سود کا جال پھيلتا جا رہا ہے، دنيا تجارتی منڈی بن کر رہ گئی ہے جہاں صرف خريدار اور گاہک کا وجود ہے، اس کے علا وہ تمام خوبياں اور برادرانہ رشتے نا پيد ہو گئے ہيں ،تو کوئی اس آواز پر کان دينے والا نہيں ،ان حا لات ميں بھی اس ملک کے ايک کنا رے سے دوسرے کنا رے تک ، اور دنيا کے ايک سرے سے دوسرے سرے تک کوئی تحريک و تنظيم ، کو ئی سيا سی يا غير سياسی پارٹی ايسی نہيں ہے،جو اخلاق و کر دار کی اس منڈی ميں ، اس ميدان ميں کام کر رہی ہو، جو بندگان خدا کو اجتماعی معاملات و مسائل ، انسانی جان کے احترام، انسانی رشتوں کی عظمت سے واقف کرائے، اور انفرادی زندگی سے بلند ہو کر اجتماعی مسائل وضروریات کی طرف سوچنے کی دعوت دے۔
دنیاکے دوسرے مذاہب ميں جہاں ان کی اصل تعليمات مفقود یا مسخ ہوچکی ہوں وہاں اگر ان خوبیوں کے نظارے دیکھنے کو نہ مليں تو زیادہ حیرت کی بات نہيں ليکن اگر يہی چیزيں خیر امت کے اندر سے بھی مفقود ہوجائيں اور اس ملت مسلمہ کے بھی اکثر افراد ان صفات سے عاری ہوجائيں تو بلاشبہ يہ بڑی فکر کی بات ہے ۔
ليکن سنجيدگی سے غور کيا جائے توآج ملت کی صورت حال کچھ ايسی ہی نظر آتی ہے ،اس امت کے اکثرافراد اپنے ذاتی مستقبل کی تعميرميں ہمہ تن مشغول ہيں ،اس کے متمول افراد ملی تقا ضوں اور اجتماعی ضرورتوں سے بے خبر ہيں ،وہ اپنی خواہشات اور تقریبات پر بے دريغ شاہا نہ اخراجات کر سکتے ہيں ،اور تھوڑی سی نيک نامی کے لئے کروڑوں روپے پانی کی طرح بہا سکتے ہيں ، ليکن ملت کے اجتماعی مسائل اور احیاءملت بلکہ بقاءملت کی تحريکيں اور بہت سے مفيد ادارے سر ما يہ کی کمی کے با عث دم توڑ رہے ہيں ،اور ان کی ضرورت کا انھيں اندازہ تک نہيں ، کتنی ضروری تحریکيں لوگوں کی دلچسپی سے محروم ہيں ، اورکتنے ملی اور قومی مسائل ہيں جن پر اگر چند لوگ بھی دل چسپی ليکر کام کو آ گے بڑھا تے رہيں ، اور ملت کو درپيش مسائل کے سلسلہ ميں دلچسپی ليتے رہيں ، تو درجنوں رکاوٹيں اورقضيے اپنے ابتدائی مرحلے ميں ہی دم توڑ ديں گے، اور کتنی ملت مخالف تحریکيں اور آوازيں اس خوف سے کہ ان کا کوئی نوٹس لينے وا لا ہے، لو گوں کے حلق ميں دب کر رہ جا ئيں گی۔
خير امت اورآسمانی دين کا حامل ہو نے کی حيثیت سے ہما ری ذمہ داری اس سلسلہ ميں صرف اتنی نہيں ہے کہ ہم اپنے گھروں کو رو شنی سے بقعہ نور بنا ئے رہيں اور پوری دنيا تا ريک پڑی ہو،ہم اپنے خاندان کی اصلا ح کی فکر کرتے رہيں اور نسل انسانی لا کھوں خداوں کی غلامی کی ذلت اٹھا تی رہے، ہم اپنے کنبہ کو نيکيوں اور اچھا ئيوں سے بھرتے رہيں اور انسانيت ظلم وجبر سے سسکتی اور کراہتی رہے۔سيلاب کا پانی ہمارے پڑوسی کے گھر ميں داخل ہورہا ہو توہم بے فکر رہيں ،اور جب يہی سيلاب بلا خيز ہمارے در وازوں پر دستک دينے لگے تو ہماری آنکھيں کھليں ،مصيبتوں اور آندھيوں کاقہر دوسرے کی ديواروں سے ٹکرا رہا ہوتو ہم بے حس بنے رہيں ، اور جب يہی آندھی ہمارے نشيمن کو تہس نہس کر نے پر آمادہ ہو تو ہم دوسروں کی بے حسی کا ما تم کر نے لگيں ۔
ضرورت ہے کہ ايک مسلمان کی حيثيت سے ہم سب کے دلو ں ميں اپنی ذمہ دا ری کا احساس ، اپنے مقام کا شعور، اور اپنے فرائض سے آگہی ہو، اور ہم برا ئيوں کے خلاف آواز اٹھا نے والے اور اس کی دعوت کو گھر گھر پہنچا نے وا لے بنيں ، بلکہ اپنے کر دار اور عمل سے ملت کا اجتماعی درد رکھنے والے بن جا ئيں ۔اور جب بھی ملت پرکوئی وقت آپڑے تو اپنے انفرا دی تحفظ کے بجائے، ملی مسائل کے تحفظ اور اجتماعی زندگی کی ضروریات پر ہماری توجہ مرکوز ہو۔
”ملت اسلاميہ کے افراد کسی ملک ميں ،ملت سے کٹ کر اور اس کے ملی اور اجتماعی تقا ضوں سے آنکھيں بند کرکے محض انفرادی خوش حالی، معاشی ترقی، ذاتی سرمايہ اور تمول، ذاتی منصب و اعزاز وشخصی حفا ظت و ضمانت پر کبھی زندہ و محفوظ وبا عزت و باوقار نہيں رہ سکتے،ملت کے کھلے ہوئے اجتماعی تقا ضوں اور ضرورتوں کی تکميل سے افراد کا پہلو تہی کرنااور ان کے بارے ميں تغا فل سے کا م لينا، اور اپنے ذاتی کارو بار کی ترقی، اور اپنے محدود خاندانوں کی بہبود و آسائش پر اپنی تمام توجہ مرکوز کر لينااور اپنی خيالی جنت ميں مست رہنااور اسی کو حقيقی مسرت سمجھنا،اپنے حق ميں کانٹے بونا اور پاوں پر کلہاڑی مارنا ہے“
فطرت افراد سے اغماض تو کرلیتی ہے
کبھی کرتی نہيں ملت کے گناہوں کو معاف
Subscribe to:
Posts (Atom)