مولانا محمد کليم صدیقی

٭      دین تو خير خواہی کا نام ہے



حمد وصلوٰة کے بعد
قال رسول اللہ ﷺ : الدين النصيحة (حديث نبوی)
حا ضرین گرامی! ميں نے آپ کے سامنے پيارے نبی ﷺ کا ايک بہت مختصراور دولفظوں کا فرمان سنايا ہے،ان دو لفظوں ميں پيارے نبی ﷺ نے دين کی مکمل تعريف بھی بيان فرمادی،دين اور اہل دين کا مزاج اور ان کی ذمہ داری،ان کی سوچ، ان کی کوششوں کا محور بھی طے فرماديا،ايک دين دار مسلما ن کی زندگی کے مکمل خطوط بھی واضح فرمادئيے،اور يہ دار ارقم جس کی يہ افتتاحی تقريب اوردعا ہے اس کے قائم کرنے کے مقاصد بھی طے فرمادئيے،اسلام اور دین اسلام پر قيامت تک ہونے والے اعتراضات اور غلط فہميوں کا بھی مکمل اور تشفی بخش جواب دے ديا، ارشاد فرمايا: الدين النصيحة( دين صرف خير خواہی ہے)یعنی دين تو بس خير خواہی کا نام ہے،جہاں خير خواہی ہے،دين ہے،اور جہاں خير خواہی نہيں وہاں دين نہيں ۔بد خواہی سے دين کا کوئی لينا دينا نہيں ،اور خير خواہی زمان و مکان اور کسی فرد واحد کے ساتھ مخصوص نہيں ،ہر ايک خيرکی خواہی، اپنی خير خواہی،دوسرو ں کی خير خواہی،اہل ايمان کی خير خواہی،غير ايمان والوں کی خير خواہی، اپنوں کی خير خواہی،دشمنوں کی خير خواہی،ہر وقت خير خواہی، ہر جگہ خير خواہی،ہر حال ميں خير خواہی،خوشگوار موڈ ميں خير خواہی،اورحددرجہ انفعال کے وقت خير خواہی،اور دين کی يہ تعريف ہمارے نبی ﷺ نے صرف اپنے قول سے يا صر ف اس فرمان سے نہيں بتائی بلکہ عملا ً کا اس کا نمونہ پيش کيا،آپ کی پوری زندگی اور زندگی کا ہر پل اور ہر حال اس حديث پاک کی عملی تفسير ہے۔غار حراميں پہلی وحی کے نزول سے لے کر آپ کے وصال تک کی زندگی کا ہر لمحہ اس کا عملی شاہد ہے کہ آپ نے خير خواہی کی ايک مثال پيش کی،بلکہ اور خير خواہوں کے لئے آپ کی زندگی اسوہ اور مشعل راہ ہے۔اگر يہ کہا جائے کہ جس خير خواہانہ دين کا علم بردار اور اس کو مکمل کرنے کے لئے آپ ﷺ کو اللہ نے بھيجا تھا، اس کے لئے آپ ﷺ کو خير خواہوں کا امام بنا کر پيدا کيا گيا تھا۔ آپ کے دنيا ميں تشريف لانے سے پہلے ہی دنيا ميں خيراور بھلائی کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے،آپ کی ولادت سے آپ کے گھر ميں برکتيں ،دائی حليمہ کے يہاں آپ کی برکات،عبد المطلب اور ابو طالب ہر ايک نے آپ کی آمد کی خير کھلی آنکھوں محسوس کی تھی۔
مگر مجھے اس تقريب کی نسبت سے ايک بات آپ حضرات سے عرض کرنی ہے اور آپ کے واسطے سے خود اپنے ضمير سے اور امت مسلمہ کے ہر فرد خصوصاً خواص امت سے عرض کرنی ہے۔ اللہ کے آخری رسول رحمة للعالمين نبی ﷺ پر غار حرا ميں پہلی وحی کے بعدسے ہی مکی زندگی پر جب ہم غور کرتے ہيں ،تو مکہ ميں دو اہم مراکز آمنے سامنے دکھائی ديتے ہيں ،اور اگر ان مراکزکے سلسلہ نسب اور نسبت کو تلاش کريں تو ہم اور پہلے بھی جاسکتے ہيں ، ايک کی نسبت ہے اللہ کے ساتھ یعنی حزب اللہ کا مرکز،اور ايک کی نسبت ہے شيطان کے ساتھ يعنی حز ب الشيطان کا مرکز،پہلے مرکز کانام ہے” دارارقم“ اور دوسرے کانام ہے دارالندوة۔دوسرے مرکزدار الندوة(جس کا کام اور مقام بدلتا رہتا تھا)ميں اپنے دردمند خير خواہوں ، خونی رشتہ داروں اور ان کی خير خواہانہ تحريک اور حق کی آواز کو،اور آواز لگانے والے خيرخواہو ں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا پلان اور سازش رچائی جاتی تھی،قرآن مجيد نے اس کاکيا خوب نقشہ کھينچا ہے:
يريدون ليطف نوراللّٰہ بافواہہم واللّٰہ متمّ نورہ ولوکرہ الکافرون  (سورة الصف:۸)
 يہ لوگ چاہتے ہيں کہ اللہ کے نورکو اپنے منھ سے (پھونک کر) بجھا ديں ،اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا،خواہ کافر اسے کتناہی نا پسند کريں
کبھی ان خير خواہوں ہمدردوں اور ان کے امير کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا پروگرام بنايا جا تا تھا،کبھی ابوطالب کو ان کی سر پرستی سے باز رکھنے کی سازش رچی جاتی تھی،کبھی سماجی لحاظ سے ان کم زوراور بے بس خير خواہوں کو شعب ابی طالب ميں محصور کرنے کا خاکہ تیار کيا جا تا تھا،اور اس حق کی آواز کو دبانے کے لئے سازشيں اور مخالف کميٹياں بنائی جا تی تھیں ،اورانفرادی اور شخصی کوششوں کو ناکافی سمجھا جا تا تو بجائے متفرق کوششوں کے باقاعدہ اجتماعی کميٹياں بنائی جا تی تھيں اس طرح کی ايک کميٹی کا ذکر سیرت نبوی کی با برکت کتاب”رحمة للعالمين“ ميں اس طرح کيا ہے:
”ايک کميٹی بنائی گئی جس کامير مجلس ابو لہب تھا اور مکہ کے پچيس سردار اس کے ممبر تھے،اس کميٹی ميں حل طلب سوال يہ بھی تھا کہ جو لوگ دور دراز سے مکہ ميں آتے ہيں انھيں محمد (ﷺ)کی نسبت کيا کہا جائے،تاکہ وہ لوگ اس کی باتوں ميں نہ پھنسيں ،اور اس کی عظمت کے قائل نہ ہوں ، ايک نے کہا ہم بتلايا کريں گے کہ وہ کاہن ہے،وليد بن مغيرہ(جو ايک خرانٹ بڈھا تھا)بولا:ميں نے بہتيرے کاہن ديکھے ہيں ليکن کہاں تو کاہنوں کی تک بندياں ، اور کجا محمد(ﷺ)کاکلام،ہم کو ايسی بات نہ کہنی چاہئے جس سے قبائل عرب يہ سمجھ ليں کہ ہم جھوٹ بھی بولتے ہيں ، ايک نے کہا ہم اسے ديوانہ بتايا کريں گے،وليد بولا: محمد کو ديوانگی سے کيا نسبت ہے،ايک بولا اچھا ہم کہيں گے وہ شاعرہے،وليد بولا:ہم جانتے ہيں کہ شعر کيا ہو تا ہے، اصناف سخن ہم کو بخوبی معلوم ہيں ،محمد(ﷺ)کے کلام کو شعر سے ذرا مشابہت نہيں ،ايک بولا ہم بتاياکريں گے وہ جا دو گر ہے،وليد نے کہا:جس طہارت و لطافت و نفاست سے محمد ﷺ رہتا ہے،وہ جادوگروں ميں کہاں ہوتی ہے،جادوگروں کی منحوس صورتیں اور نجس عادتیں الگ ہی ہو تی ہيں ۔
  اب سب نے عاجز ہو کر کہاچچا تم ہی بتاو چاہئے۔
 آخر اس کميٹی نے مندرجہ ذيل ريزوليوشن پراتفاق کيا:
  محمد(ﷺ)کو ہر طرح سے دق کيا جائے،بات بات ميں اس کی ہنسی اڑائی جا ئے،تمسخر اور ايذاسے اسے سخت تکليف دی جائے،محمدکے سچا سمجھنے والوں کو انتہا درجہ کی تکاليف کا شکار کيا جائے۔(رحمة للعالمين ص۲۵۔۳۵)
اوران تمام سازشوں اورمشوروں اوربدخواہوں کااميرابليس کبھی کبھی شيخ نجدی کی شکل ميں بنفس نفيس شريک ہوتا تھا، اس مرکزکومکہ کے سرداروں ،رئيسوں ،اميروں ،صاحب جاہ و منصب عہدہ داروں کی پشت پناہی حاصل تھی،بلکہ سارے سرداران مکہ بنفس نفيس ان تمام سازشوں ميں ايک سے ايک بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔
دوسری طرف اس اندھيرے اور ظلمات،بلکہ ظلمات کے مرکز کے خلاف،اہل حق کا،روشنی کا،حزب اللہ کا،خير خواہوں کا، رحم و محبت کا مرکز تھا، جس کا نام دار ارقم تھا،جس ميں حق کی روشنی کو بجھانے ،اسلام کی شمع کو گل کرنے،ان حددرجہ خير خواہوں ، سماجی لحاظ سے بالکل بے بس و کمزوروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے والوں کے لئے،راتوں کو اپنی نيند آرام قربان کرکے ان کے لئے اپنے رب کے حضور ان کی ہدایت اور ان کو تباہی سے بچانے اور دارين کی سعادت و رفعتیں عطا کرنے کی دعائيں کی جا تی ہيں ،اور دنوں کو دردمندی کے ساتھ ان کو دردر کی پوجا اور غلامی کی ذلت اور اللہ کے غيرسے بچانے اور دوزخ کے دردناک عذاب سے بچانے کے مشورے،اور پھر ان مشوروں کے مطابق ايک ايک کے پاس سترسترباربلکہ تہتر بار خوشامد کی جاتی تھی،اس کو سمجھايا جاتا تھا، اور پھرآسمان و زمين نے ديکھا کہ اللہ کا قانون غالب آکررہا۔احکم الحاکمين رب نے اپنا قانون اپنے ابدی منشور قرآن کريم ميں بتاديا کہ :
 فاما الزبد فيذہب جفائ، وامّا مَا ينفع الناس فيمکث فی الارض (سورہ:  )
بہرحال جو جھاگ ہوتا ہے وہ سوکھ کر خشک ہوجاتا ہے،اور جو (چيز)لوگوں کو نفع دیتی ہے وہ زمين ميں باقی رہتی ہے
وہ اللہ جس نے اپنا قانون طے فرماديا کہ بے فائدہ چيزيں ، قوميں اور افراد،کوڑے کرکٹ کی طرح سکھا کر،گرد بنا کر اڑا دی جاتی ہيں ،اور جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے اللہ اس کو زمين ميں جماکر رہتے ہيں ،جب بے فائدہ یعنی جونہ نفع پہنچائے نہ نقصان، اس کو اللہ کی زمين پر ثبات نہيں ،بلکہ اس کو ضائع ہوجانا اورگرد بن کر فنا ہو جانا طے ہے، تو جو اس کے بندوں کی بد خواہی کرے بلکہ اپنی تمام مالی، جانی اور ذہنی صلاحيتیں اللہ کے بندوں کی دشمنی اور ايذا رسانی ميں صرف کرے گا تو ايسے لوگوں کے اللہ کی حسين وجميل دنيا ميں باقی رہنے کا کيسے جواز ہو سکتا ہے۔
آسمان وزمين شاہد ہے کہ حزب الشيطان اور دار الندوة کی جماعت ميں سے جن بدخواہوں نے اپنے راستہ کو بدل ليا اور انھوں نے توبہ کرکے اپنے کبروغرورکو چھوڑ کر اللہ کی بندگی اور ان خير خواہوں کے مرکز دار ارقم کے امير کی غلامی اختیار کی،اللہ تعالی نے ان کی عزت اور عظمت کالوہا منوايا،مگر جو لوگ اس بدخواہانہ روش پر ڈٹے رہے،تواپنی سرداری اور جاہ منصب کے باوجود ان کو صفحہ ہستی سے مٹاديا گياکہ ان کا نام ان کی بد بختی پر حسرت و افسوس کے لئے عبرت کے طورپر لوگو ں کو یاد رہا،اور دار ارقم کے ان خير خواہوں کی اس بے بسی اور سماجی و مالی لحاظ سے کم مائےگی کے باوجود دار ارقم کے خيرخواہوں کے امير کا قانون پچاس سال ميں ساٹھ فيصد زمين کے رہنے والوں کے دلوں پر چلنے لگا،اور اس وقت ميں نہ صرف مکہ و حجاز بلکہ اس وقت کی دنيا کی دو سپر پاوروں قيصر و کسریٰ کے تاج دار ارقم کے رئيس کے غلاموں کے قدموں ميں اللہ نے ڈلوادئيے،اور انسانیت کی اس خير خواہی کو، اوراس خير خواہی ميں گھلنے کو،دار ارقم کے امير رحمة للعالمين نبی کی امت کی سرداری کا راز اللہ نے قرار ديا اور اپنا فيصلہ اپنے کلام ميں رہتی دنيا تک کے لئے طے فرماديا:
کنتم خيرامّة اخرجت للنّاس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتومنون باللہ (سورہ آل عمران:۱۱۰)
تم خير امت ہوجسے لوگوں کے لئے نکالا گيا ہے،اس لئے کہ تم معروف کا حکم کرتے ہو،منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ايمان لاتے ہو
امير المومنين حضرت عمر بن الخطاب ؓ کا مشہور ارشاد ہے کہ تمھاری سرداری ان ہی تین شرطوں کے ساتھ مخصوص ہے،اگر سرداری چا ہنی اور بر قرار رکھنی ہے تو يہ تینوں شرطيں پوری کرو،ان ميں مقدم انسانیت کی خير خواہی اور انسانوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرنا ہے،اورتیسری شرط ايمان تو ہر عمل کے لئے ضروری ہے۔حجة الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ ؒ نے لکھا ہے کہ:قرآن مجيد ميں مضامين کی تقديم و تاخير اور ترتیب بڑے معنیٰ رکھتی ہے۔
آخرت ميں جنت حاصل کرنے کے لئے آمنو وعملوا الصالحات پہلے ايمان اور بعد ميں عمل صالح کی ترتیب قائم کی ہے، جب کہ سرداری اور عزت و سرفرازی کے لئے پہلے انسانیت کی خير خواہی ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر،يعنی خير خواہانہ دعوت، ايمان سے مقدم شرط ہے،اس طرح گويا امت مسلمہ کی سرداری کو انسانیت کی خير خواہی کی ڈگر پر چلنے کے ساتھ مخصوص کيا گيا ہے، الميہ يہ ہے کہ گدی او رراج تو ہے دلی کی طرف جانے پر،اور ہم نے بمبئی کی ڈگر پر چلنا شرو ع کرديا ہے،حق اداکرنے ،انسانیت کو نفع پہنچانے کے بجائے ہم لوگ نفع کمانے،مطلب نکالنے اور حق وصول کرنے کی راہ پر سرداری تلاش کررہے ہيں ،بلکہ اس سے آگے بڑھ کر يہ کہنے ديجئے،کہ ہم نسبت تو دار ارقم کے امير نبی رحمة للعالمين سے کرنے کا دعویٰ کرتے ہيں مگر ہماری ساری صلاحيتیں ،ہماری جانی، مالی، علمی، ذہنی اور فکری صلاحیتيں دار الندوہ کے سرداروں کی پيروی ميں لگ رہی ہيں ،اور ہم خواب ديکھتے ہيں دار ارقم کے رئيس اور ان کے غلاموں کی فتوحا ت کے۔
ميں دار ارقم کے قائم کرنے پراس کے ذمہ داروں ،اہل بستی بلکہ تمام زمين والوں کو مبارک باد ديتا ہوں اور اميد کرتا ہوں کہ خير خواہی سے موسوم يہ مرکز پوری زمين والوں ،بلکہ اس سے آگے، پوری کائنات والوں کے لئے خير اور برکات کا ذريعہ ثابت ہوگا، اگريہ اپنے مزاج اپنی کوششوں اورتمام تر جد وجہد ميں دار ارقم کے امير نبی رحمة للعالمين کی پيروی اور ان کے قائم کردہ خطوط سے وابستہ رہے گا۔يوں بھی يہ مرکز اس سرزمين پر بہت مبارک ہے، اس لئے کہ يہ نام خود ملت کو چودہ سو سال پہلے کے اپنے تابناک مرکز کی طرف کم از کم متوجہ کرنے اور اس سے وابستہ کرنے کی ايک مبارک کوشش ہے۔
خدا کرے يہ مرکز اس شہر، اس صوبہ، بلکہ اہل محبت کے اس ملک ہندوستان کے لئے، کفر و شرک کے اندھيروں کو دور کرنے اور بلکتی، سسکتی انسانیت کو، اللہ کے قہر اور نار جہنم سے بچا کر اللہ کی رضا اورجنت کا حق دار بنانے کی مسيحائی کا مرکز بنے۔ آمين
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمين
________________________________________________
 ________________________________________



٭      ہدیہ نعت حفيظ محمود بلند شہری

جگمگاتے ہوئے چاند اور ستاروں کے نقوش
آپ کے نور کی برکت ہيں اجالوں کے نقوش
اہل ادراک کو ہرچيز ميں آتے ہيں نظر
باعث خلق جہاں آپ کے جلووں کے نقوش
آپ نے کلمہ توحيد سے زائل فرمائے
ثبت لوگوں کے دلوں پر تھے جو غيروں کے نقوش
چوم لوں ہونٹوں سے،آنکھوں کو بچھادوں ان پر
کاش مل جائيں کہيں آپ کے قدموں کے نقوش
آپ کی شان ہے جب آئينہ لولاک لما
کيوں ہر اک شی ميں نہ ہوں آپ کے جلووں کے نقوش
آپ تو آپ ہيں ،اصحاب بھی ماشاءاللہ
مشعل راہ ہيں ان حق کے ستاروں کے نقوش
فيض سب ہی کو ملا رحمت عالم کا حفيظ
دست قدرت نے تراشے ہيں جو چہروں کے نقوش
___________________________________________
___________________________________



٭      اسامہ بن لادن کی وفات

 مولانا خالد سيف اللہ رحمانی

یکم مئی ۱۱۰۲ءاب ایک تاریخی اہمیت کی حامل تاریخ بن چکی ہے ، جس میں اسامہ بن لادن ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے مطابق جاں بحق ہو چکے ہیں ،اس حادثہ پر دوہر ا ردّ عمل جاری ہے ، مغربی ملکوں میں اس پر خوشیاں منائی جارہی ہیں یہاں تک کہ رقص کیا جارہا ہے ، جب کہ پڑوسی ملک پاکستان میں طالبان اور ان کے ہمدردوں نے اس واقعہ پر سخت اندوہ اور غم وغصہ کا اظہار کیاہے ، پاکستان کے علاوہ خود ہندوستان میں بھی بعض لوگوں نے نماز جنازہ غائبانہ اداکی ہے ،یہ دونوں طرح کے رد عمل توقع کے عین مطابق ہیں ، تاہم کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس عمل کے جواز پر اور بین الاقوامی قوانین کے پس منظرميں ، اس کے مبنی پر انصاف ہونے پر انگلی اٹھائی ہے ، ہندوستان میں متعدد غیر مسلم رہنماوں نے بھی اس قدم کو امریکہ کی زیادتی قرار دیا ہے ، مسلمان ملکوں کے بارے میں یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ امریکہ کے کسی اقدام کے بارے میں انصاف کے اصولوں کے مطابق غور کریں گے کیونکہ ان حکمرانوں کے دل عام طور پر مغربی طاقتوں کے خوف اور اقتدار کی حرص و طمع سے معمور اور اللہ کے خوف سے عاری اور امت کی محبت سے خالی ہیں ،لیکن منصف مزاج غیر مسلم رہنماوں خاص کر ہندوستان کے انصاف پسند برادران وطن سے تو قع کی جاتی ہے کہ اس کا جائزہ لیں گے اور جرات کے ساتھ اس صورت حال کا تجزیہ کریں گے ۔
اہم بات یہ ہے کہ انصاف کا تقاضہ اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتاجب تک کسی معاملہ میں فریقین کی بات سنی نہ جائے ، انہیں اظہار حقیقت کا موقع نہ دیا جائے،اور ملزم کے لئے صفائی پیش کرنے کی گنجائش نہ رکھی جائے،یہ اسلامی نقطئہ نظر بھی ہے اور انصاف کا تقاضا بھی، سید نا حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : کہ جب تمہارے پاس دو اشخاص کا معاملہ آئے ،تو جب تک دوسرے کی بات نہ سن لو ،پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو” اذا تقاضیٰ علیک رجلان فلا تقضی للاول حتی تسمع کلام الآخر“ (سنن ترمذی ، باب ماجاءفی القاضی لا یقضی بین الخصمین الخ،حدیث نمبر : ۱۳۳۱) ....نیز ہر مہذب حکومت اورسماج میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ فریقین کی بات سننے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے، لیکن اس معاملہ میں صورت حال یہ ہے کہ ا مریکہ خود مدعی ہے ، وہی گواہ ہے اور اسی نے فیصلہ بھی کیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ پوری طرح انصاف کے تقاضوں کے مغائر ہے ،اور نہ صرف مسلمانوں کا ، بلکہ پوری دنیا کے انصاف پسند شہریوں کا فریضہ ہے کہ وہ اس صورت حال کے خلاف آواز بلند کریں ۔
اس یک طرفہ فیصلہ کاسب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ملزم کو صفائی کا موقع نہیں ملتا اور وہ فیصلہ ہر گز انصاف کے مطابق نہیں ہو سکتا جس میں فریق مخالف کو صفائی کا موقع نہ دیا جائے ، اسلام کی نظر میں یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ جیسے خلفاءراشدین کو بھی عدالت نے دعوی کے ثبوت کے لئے تنہااس کے استغاثہ کو کافی نہیں سمجھا، اصول کے مطابق عدالت کی کاروائی چلائی گئی اور اپنے مدعا پر ان سے گواہان بھی طلب کئے ، یہاں تک کہ ایک مقدمہ میں حضرت علی ؓ کے حق میں حضرت حسن ؓ کی گواہی اس وجہ سے رد کر دی گئی اور دعوی خارج کر دیا گیا کہ وہ ان کے صاحبزادے ہیں اور باپ کے حق میں بیٹے کی شہادت معتبر نہیں ، فقہائے اسلام نے اس اصول کی ایسی پابندی کی ہے کہ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک مدعیٰ علیہ کی موجودگی کے بغیر نہ مقدمہ کی سماعت کی جاسکتی ہے اور نہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے ، دوسرے فقہاءکے نزدیک اگر مدعیٰ علیہ لا پتہ ہو، یا صفائی کا باربار موقع دئے جانے کے باوجود حاضر نہ ہو تا ہو، تب تو اس کی موجودگی کے بغیر فیصلہ کرنے کی گنجائش ہے ، ورنہ مدعی ٰعلیہ کی حاضری کے بغیر کسی مقدمہ کی سنوائی اور اس کا فیصلہ درست نہیں ۔
ہونا یہ چاہئے تھا کہ بین الاقوامی عدالت میں اس مقدمہ پر بحث ہوتی ، اسامہ بن لادن اور ان کے رفقاءکو وضاحت کا حق دیا جاتا، اور اگر ان کا جرم ثابت ہوتا تو انہیں قرار واقعی سزا دی جاتی ، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا ، بلکہ امریکہ نے بین الاقوامی منظوری کے بغیر بطور خود افغانستان پر حملہ کیا ، ایک منظم حکومت کو بے دخل کردیا اور لاکھوں انسانوں کا خون بہایا ، نیز ۱۱ستمبرکے واقعہ کے سلسلہ میں یہودیوں کے کردار سے متعلق جو شہادتیں پيش کی گئیں ، ان کو بالکل نظر اندا ز کر دیا گیا۔
اس واقعہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مجرم کو ہر شخص اپنے طور پر سزا دینے کا حق نہیں رکھتا ، اگر اس طرح کی اجازت دے دی جائے تو سماج میں امن درہم برہم ہو جائے گا اور زور آور افراد کمزوروں کو اپنے لئے لقمہ  تربنالیں گے ، اسلام کا تصور یہ ہے کہ سخت جسمانی سزائیں دینے کا حق سر براہ حکومت کوہے او ر کوئی شخص قانون کو اپنے ہا تھ میں نہیں لے سکتا ، اسی لئے حدیث میں ہمیشہ زنا وغیرہ کی سزا نافذ کرنے کی نسبت سلطان کی طرف کی گئی ہے (سنن ابی داود ، حدیث نمبر ۹۷۹۳) فقہاءنے اس اصول کو بار بار واضح کیا ہے، چنانچہ علامہ ابن نجیم مصری فرماتے ہیں : ....لان الشرع لما اوجب علی الامام ان یحد ھٰذا الرجل (البحر الرائق :۵۴) اس لئے مجرم جہاں ہو یا تو اس کے سردار کو سزا دینے کا حق ہے یا ایسے ادارہ کو جسے بین الاقوامی سطح پر ملکوں اور قوموں کے انتخاب رائے سے ولی امر تسلیم کیا گیا ہو ، اس لئے اگر اسامہ بن لادن واقعی مجرم تھے تو یا تو سعودی عرب کو سزا دینی چاہئے تھی،جہاں وہ پیدا ہوئے یا پڑوسی ملک کو جہاں و ہ چھپے ہوئے تھے، یا اقوام متحدہ کو جس کو ملکوں اور قوموں کے اتحاد کی وجہ سے ایک حد تک قانونی فرماں روائی حاصل ہے ،اس کے بجائے امریکہ کا اپنے طور پر دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہو کر حملہ کرنے کا فیصلہ کرنا یقینا دہشت گردی کو ختم کرنے کے نام پر بدترین قسم کی دہشت گردی ہے، اگر طاقت ور قومیں اس عنوان سے کمزور قوموں کو اپنا ہدف بنانے لگیں تودنیا لا قانونیت کی آماجگاہ بن جائے گی اور پورے عالم میں جنگل راج کی حکمرانی ہو جائے گی اس لئے حقیقت یہ ہے کہ تمام ممالک کو امریکہ کے اس رویہ کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے۔
اس واقعہ میں تیسرا قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کی لاش لینے کو نہ پاکستان تیار ہوا اور نہ کسی اور مسلم ملک نے اس پر آمادگی ظاہر کی ، یہ بہت ہی قابل افسوس بات ہے ، ایک مسلمان چاہے کچھ بھی ہو اس کے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان اسلامی اخوت کا رشتہ باقی رہتا ہے اور اس رشتہ کے تقاضوں میں سے یہ ہے کہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے اوراس کی تدفین عمل میں آئے ، شریعت نے اسے فرض کفايہ قرار ديا ہے،اور اس کی فرضیت کے لئے صرف اتنا ضروری ہے کہ مرنے والا مسلمان ہو اور پاک ہو یعنی اسے غسل دیا گیا ہو ، شرطھا اسلام ا لمیت وطھارتہ “ (البحر الرائق : ۳۔ ۹۷۱) بعض دفعہ ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے کسی بات پر تنبیہ کرنے کے لئے خود نماز جنازہ نہیں پڑھی لیکن آپ نے صحابہ ؓ کو اس سے منع نہیں فرمایا اور مسلمان ان کی تجہیز و تکفین میں شریک رہے جیساکہ حضرت ماعز ؓ کے ساتھ ہوا ، (سنن ابی داود حدیث نمبر : ۶۸۱۳) باب الصلوٰة علی من قتلتہ الحدود الخ ) اسلام میں مرُدوں کے دفن کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اس میں اس کا احترام ملحوظ ہے اور سائنسی اعتبارسے یہ ماحولیات سے تحفظ کا نہایت موثر ذریعہ ہے ، اس لئے تدفین کا اصل طریقہ یہ ہے کہ مرد ہ کو مٹی میں دفن کیا جائے ، البتہ اگر سمندر ی سفر میں کسی شخص کا انتقال ہو، اور ساحل دور ہو تو چوں کہ لاش کو باقی رکھنے میں تعفن پیدا ہونے کا خطرہ ہے ،اس لئے بدرجہ مجبوری کوئی وزنی چیز باندھ کر سمندر میں بہادینے کی اجازت ہے، لیکن مسلم ممالک کے لئے یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ وہ کسی مسلمان کی لاش کو مغرب کے خوف سے قبول نہ کریں اور اپنے یہاں اس کو دفن کرنے کے روادارنہ ہوں ۔
بہر حال اب تک یہ بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی ہے کہ اسامہ بن لادن ۱۱ ستمبرکے واقعہ میں ملوث تھے، امریکہ کا نقطئہ نظر یہ رہا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے لوگ اسے بے چوں و چرا تسلیم کر لیں ، یہ ایسی منطق ہے کہ اگر اقوام عالم ایک قضیہ یا ایک شخص کے معاملہ میں اس طرز عمل کو تسلیم کرلیں گے، تو پھر کسی طاقت ور ملک یا گروہ کا ہاتھ تھامنا اور اس کو ظلم و ناانصافی سے باز رکھنا مشکل ہو جائے گا دنیا میں فوجی طاقت کے ذریعہ امن و امان قائم نہیں ہو سکتا ، بلکہ انصاف کے ذریعہ امن و امان قائم ہو سکتا ہے ، اگر انصاف کے الگ الگ پیمانے ہوں اور طاقتور کو سچا، اور کمزور کو جھوٹا اور مجرم سمجھا جانے لگے تو پھر انسانوں کی یہ دنیا درندوں کی دنیا بن جائے گی، اس لئے حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ پر اصول انصاف اورانسانی تقاضوں کی روشنی میں غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
 اللہ تعالیٰ عالم اسلام او ر ملت اسلامیہ کو شعور عطا فرمائے کہ وہ صلیبی اور صہیونی طاقتوں کی دور رس سازشوں کو سمجھیں اور انہیں اس بات کی توفیق عطا ہو کہ وہ اپنے آپ کو ان کے مقابلہ کے لائق بنائیں او رپوری دنیا میں انصاف کے علم بردار بنیں ۔